طاہر ناصر علی ۔۔۔ دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے

دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے
چھوڑ کر ہم بھی اپنا گھر آئے

ایسا لگتا تھا کر رہے ہوں وداع
راہ میں جو گھنے شجر آئے

یاد کرتے ہوئے اُسے آخر
اُس کے کوچے سے ہم گزر آئے

جس کو دیکھو وجود میں اپنے
تنہا تنہا یہاں نظر آئے

شیشۂ اعتبار کیا ٹُوٹا
دل کی مسند سے ہم اُتر آئے

جس سے آئیں نئی نئی چیزیں
تھے پرانے جو گھر نکھر آئے

آسماں اشکبار ہوتا ہے
دل کی آہوں میں جب اثر آئے

ہو گئے دُور ایک لمحے میں
ساتھ جو عمر بھر نظر آئے

زندگی میں جنھیں بُھلا نہ سکے
زیست میں ایسے بھی سفر آئے
تیری محفل میں دوسروں کی طرح
چاہتے تو نہ تھے مگر آئے

کہہ اٹھے لوگ دیکھ کر مجھ کو
شکر ہے آج تم نظر آئے

ملنا چاہے گا ہر کوئی آکر
تیری محفل میں ہم اگر آئے

خود کو لوگوں سے منسلک رکھنا
ہاتھ مشکل سے یہ ہنر آئے

خون میثم کا دے رہا ہے صدا
ہم سرِ دار لے کے سر آئے

خود کو ہم ڈھونڈتے رہے طاہر
کرکے ہجرت نگر نگر آئے

Related posts

Leave a Comment